6 جون 2012 - 19:30

سویڈن میں امن کے عالمی تحقیقاتی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں کمی آئي ہے لیکن ایٹمی گوداموں کو ابھی تک اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے۔

ابنا: واضح رہےکہ ایٹمی گوداموں کو ایسی حالت میں اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے کہ جب امریکہ ، برطانیہ اور روس جیسی بڑی ایٹمی طاقتوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہےکہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کم کریں گی۔ امن کے عالمی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے آٹھ ممالک کے پاس چار ہزار چار سو ایسے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن کو وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔اس رپورٹ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ ، روس اور برطانیہ سمیت بڑی طاقتوں نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور گوداموں کی نابودی اور ان میں کمی سے متعلق اپنے وعدوں پر نہ صرف عمل نہیں کیا ہے بلکہ ہر روز ان کو اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہیں۔

یہ ممالک اپنی ایٹمی سرگرمیوں میں توسیع اور ان کو جاری رکھنے کے لۓ طویل المیعاد پروگرام بناۓ ہوۓ ہیں مثلا حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی حکومت Miniature weapons کے استعمال کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کا ادارہ ہے۔ جس نے سنہ دو ہزار بارہ کے اپنے بجٹ سے آٹھ ارب چار سو ملین ڈالر اس مقصد کے لۓ مختص کۓ ہیں۔ Miniature weapons کھلونوں کے ساتھ زیادہ شباہت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ جدید ہتھیاروں کی تیاری کے لۓ اب زیادہ پیچیدہ ٹیکنالوجی استعمال کی جانے لگی ہے۔ اور ان ہتھیاروں کی بہت ہی کم تفصیلات کا ابھی تک انکشاف ہوا ہے۔

بہت سے ماہرین کا کہنا ہےکہ عالمی اداروں میں دسیوں برس قبل زیر بحث آنے والا ہتھیاروں کی نابودی کا موضوع اب ایک پرانے سپنے کے ساتھ زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ انیس سو اکانوے میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ہتھیاروں کی دوڑ اور ان میں توسیع کی کوئي وجہ باقی نہیں رہ گئي تھی۔ لیکن امریکہ اور روس نے اسٹارٹ معاہدے پر دستخط کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے وعدے کے باوجود ایٹمی ہتھیاروں کے حامل بڑے ممالک کے طور پر ان ہتھیاروں میں توسیع اور ان کو اپ ڈیٹ کرنے کے لۓ بڑے بڑے بجٹ مختص کر رکھے ہیں۔ اور وہ اس طرح کے ہتھیاروں کے سلسلے میں دنیا والوں کو لاحق تشویش برطرف کرنے کے لۓ کوئي عملی اقدام انجام نہیں دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دنیا کے سیاسی رہنماؤں کو ایٹمی گوداموں میں توسیع کے مسئلے پر اپنی توجہ مرکوز اور ان کی نابودی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہۓ۔....... /169